کافرستان
زرک میر
اب ہم مزید دور نہیں رہ سکتے .شادی کیلئے مجھے پہلے مسلمان بننا ہوگا وہ بھی بن جائونگی
لڑکی نے لڑکے کی بہائوں میں انگڑی لی
شادی کرینگے لیکن اس کے لئے تمہیں کچھ نہیں بننا پڑیگا لڑکے نے اطمینان سے کہا
تو پھر کیا کرنا ہوگا. اب تک تو یہی ہوتا رہا ہے .روپا کیساتھ اکبر نے پیار کیا . روپا کو شادی کیلئے مسلمان بننا پڑا . پائل کو بھی مسلمان بننا پڑا میں بھی بن جائونگی
تمہیں یہ سب نہیں کرنا پڑیگا...لڑکے کے جواب نے پھر لڑکی کو حیران کر دیا
تو پھر مجھے کیا کرنا ہوگا.
میں نے تم سے عشق کیا ہے.اورعشق مسلمان یا ہندو نہیں ہوتا .اگر میں مذہبی ہوتا تو مجھے تم سے عشق نہیں. ہوتا.مجھے تم میں بے حیائی نظر آتی… تم سے گن آتی… بو آتی …تمہیں بخال(ہندو) کہہ کر بھاگ جاتا
تو پھر کیا کرینگے .لڑکی نے حیرت سے پوچھا
نہ تم مسلمان بنوگی نہ میں ہندو
تو پھر ہم شادی کیسے کرینگے .کہاں رہیں گے .یہاں لوگ کیسے رہنے دینگے ہمیں
مجھے معلوم ہے عشق کا مذہب سے تعلق نہیں .نہ ہم جنت جائیں گے نہ ہی سورگ.. تم ہی میری حور ہو.
تو پھر ہم کیا کہلائیں گے. لڑکی کی آنکھیں حیرت سے چمک گئیں
عشق کے بعد ہم نہ مسلمان رہے نہ ہندو…عشق کفر ہے …ہم نے کفر کیا ہے …ہم کافر بن گئے …
کافر ؟ تو اب ہم کہاں رہیں گے.
ہم کافرستان میں رہیں گے
یہ کہاں ہے …
یہاں سے دور بہت دور
دونوں قریب ہوگئے چاند شباب پر تھا…

No comments:
Post a Comment