#دل_پہ_لگے_وہ_زخم_پیا
#از_ثمرین_شاہد
#قسط_13
جب صبح ناشتے پر بھی وہ اپنے کمرے سے نہیں نکلی تو فہمیدہ خاتون اسکا ناشتہ کمرے میں دے گئی تھیں ۔
تقریبًا دس بجے آسود کی مما انکے کمرے کے باہر کھڑی اپنے لہجے میں پیار سموئے اسے آواز لگا رہی تھیں ۔۔
زارا بیڈ پر بیٹھی تھی انکی آمد پر وہ شکتہ قدموں کے ساتھ چل کر دروازہ کھولنے لگی۔
انھیں سامنے دیکھ کر سلام کیا جسکا انھوں نے بے حد پیار سے جواب دیا تھا، پھر وہ دونوں ایک ساتھ چل کر بیڈ تک آئیں ۔۔
اب دونوں مدمقابل بیٹھی محو گفتگو تھیں۔
”زارا!! ،بیٹا آج آپ ناشتے پر نہیں آئیں اور کل رات بھی کچھ نہیں کھایا؟؟ ،آپ ٹھیک تو ہیں ؟؟؟“
انھوں نے نرمی سے استفسار کیا انکے لہجے میں زارا کےلئے فکرمندی تھی ۔
”جی آ۔۔۔۔ “ وہ انھیں آنٹی کہتے کہتے رُک گئی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ انھیں کیا کہہ کرپُکارے۔
”بس زرا سی کمزوری محسوس ہورہی تھی لیکن آپ فکر نہ کریں میں بلکل ٹھیک ہوں ۔“
وہ انھیں بتارہی تھی۔
”تو بیٹا آپ مجھے بتاتی نہ ،،، میں آپ کو دوائی دے دیتی ،، اور کھانا چھوڑ دینے سے آپ تو بیمار پڑجائیں گیں۔۔“
اس بار وہ پہلے سے زیادہ فکر مند ہوئی تھیں۔
لیکن زارا نے کچھ نہیں کہا بس اُنھیں یک ٹک دیکھنے لگی ،وہ اس کےلئے کتنی فکر مند تھیں ۔لبنٰی چاچی اور اسکے بابا کے علاوہ آج تک کوئی اسکے لئے یوں پریشان نہیں ہوا تھا۔
زارا کی نظریں خود پر مرکوز دیکھ کر وہ ہلکا سا مسکرائی پھر بولی۔
”بیٹا اپنا خیال رکھا کرو۔۔۔ دیکھو تو خود کو پہلے ہی کتنی کمزور ہو ۔۔ اور کھانا وقت پہ کھایا کرو ورنہ بیمار ہوجاؤگی۔۔۔“
وہ اُسے نصیحت کرنے لگیں۔
”جی ۔“زارا مختصر سا بولی
”تمہیں پتہ ہے میری ایک بھتیجی ہے اسکا نام بھی زارا ہے ،،،تمہیں پہلی بار دیکھنے پر مجھے تم میں اُسکا ہی عکس نظر آیا۔۔
میں کل تمہیں دیکھ کر حیران ہوئی تھی پھر سوچا زارا کیسے ہوسکتی ہے ؟؟، وہ تو بیرون ملک میں رہتی ہے ابھی ہی اطلاع ملی ہے بس میری دُعا ہے خوش رہے میری بچی۔۔۔
زایان تو بہت خوش تھا کہ وہ یہاں آکر زارا سے ملے گا اسکی سب سے پیاری دوست جو ہے میری زارا!! لیکن یہاں آنے کے بعد معلوم ہوا کہ اُسکی شادی ہوگئی ہے، میں ندا سے بھی ناراض ہوں اس نے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔
وہ پے درپے سارے راز افشاں کررہی تھیں زارا ہونق بنی انکی بات سُن رہی تھی ۔۔مطلب اس کا اندازہ بلکل درست تھا ، یہی اسکی پھوپھو جان تھیں، حلیمہ پھوپھو !!،،، وہ انکے گلے لگ جانا چاہتی تھی چاہتی تھی کہ وہ کبھی اس سے دور نہ جائیں ،اتنے دن بعد تو وہ اسے ملی تھیں
انکا پیار دیکھ کر اُسے اسکے بابا یاد آئے تھے وہ بھی ان کی طرح نرم گفتار تھے ، اسی طرح شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے تھے انکی آنکھوں میں بھی یہی چمک ہوا کرتی تھی جو اس کے سامنے بیٹھی وجود کے آنکھوں میں وہ اپنے لئے دیکھ رہی تھی۔
اسے ٹکتے دیکھ وہ خاموش ہوگئیں اسے لگا سامنے بیٹھی پیاری سے لڑکی انکی باتیں سُن کر بُور ہورہی ہے۔
”معاف کرنا بیٹا ،،، میں تھوڑی جذباتی ہوگئی تھی ،،، اس لئے یہ سب بول گئی ۔“
زایان کو بولنے کی عادت بھی وارث میں ملی تھی ،، دونوں ماں بیٹے جب ایک بار بولنا شروع کرتے تو ہر کسی کو پیچھے چھوڑ دیتے۔۔۔
زارا یہ سوچ کر مسکرائی تھی۔۔
اچھا اب میں چلتی ہوں انھوں نے آگے بڑھ کر اسکے ماتھے کو چوما پھر شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر اُٹھنے لگیں، تبھی زارا کے سوال نے اُسے رُکنے پر مجبور کیا۔
”یہ زایان کون ہے؟؟“ اُس نے اتنی دیر بعد اپنا پہلا سوال کیا،وہ اندر ہی اندر خوشی سے نہال ہورہی تھی لیکن پھر بھی انکے منہ سے سُننا چاہتی تھی کہ آسود ہی زایان ہے یا زایان اور آسود دو الگ الگ لوگ ہیں ۔
”جس کے ساتھ تم یہاں آئی ہو ،،، وہی زایان ہے بیٹا،، کیا تمہیں اب تک اسکا نام نہیں پتہ ؟؟"
انھوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
”لیکن فہمیدہ آنٹی تو اسے آسود کہہ رہی تھیں ؟؟“
اس نے اُلجھی نظروں کے ساتھ کہا۔
فہمیدہ اُسے آسود ہی کہتی ہے ،،، اسکے سارے دوست اسے آسود کہہ کر پُکارتے ہیں ،،، دراصل اسکا پورا نام زایان آسود ملک ہے۔
”اور آپ کا نام؟؟“
زارا اپنے احساسات چُھپاتے ہوئے جھٹ سے بولی۔
وہ اندر سے بہت خوش تھی وہ پیچھلے دو تین دونوں سے اپنوں کے ساتھ رہتے ہوئے بھی انجان تھی ، اسکی مدد کرنے والا اور کوئی نہیں اسکا اپنا کزن ،،، اسکا سب سے پیارا دوست زایان تھا جس سے وہ بچپن میں ڈھیروں باتیں کیا کرتی تھی ۔
اسکے واپس امریکہ چلے جانے کے بعد وہ کتنی چُپ ہوگئی تھی ،،، وہ اپنوں کا دور جانا برداشت نہیں کرسکتی تھی مگر دو تین سال بعد اسکے بابا بھی اُسے چھوڑ کر چلے گئے۔ پھر وہ تنہا رہ گئی ۔
ندا پھوپھو نے تو جیسے اسے اپنا مانا ہی نہ ہو ورنہ وہ اُس پر ظلم کیوں کرتیں ، اسکے لئے زبیر جیسا ہمسفر کیوں چُنتیں۔۔
وہ انھیں بتانا چاہتی تھی کہ اتنے سال وہ انھیں مس کرتی رہی ہے ،،،وہ شکایت کرنا چاہتی تھی کہ وہ بابا کے انتقال کے بعد اس سے ملنے کیوں نہیں آئیں جب اسے انکی سب سے زیادہ ضرورت تھے۔۔
اپنے آنسو چُھپانے کے لئے وہ انکے گلے لگ گئی ،،،ضبط کے باوجود آنسو اسکی آنکھوں سے نکل کر اسکے چہرے سے ہوتے ہوئے حلیمہ خاتون کے کپڑوں میں جذب ہورہے تھے۔۔۔کچھ دیر وہ ان سے بچّوں کی طرح لپٹی رہی پھر آنسو پونچھتی ان سے الگ ہوئی ۔۔
”بیٹا !!، تم رُو رہی ہو ؟؟؟ کیا میں کچھ غلط بول گئی؟؟ ،بولو!“
حلیمہ خاتون اُسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر پریشان ہوگئی تھیں اس لئے اس سے رونے کی وجہ پوچھنے لگیں ۔
”نہیں ۔۔۔ بس مجھے بابا کی یاد آگئی تھی اس لئے آنسو نکل آئے۔“
اس نے انگلیوں کے پروں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
” اچھا تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا،،، میں سوچ میں پڑگئی تھی کہ ناجانے میری کون سی بات تمہیں بُری لگ گئی ، ویسے تمہارے بابا کہاں رہتے ہیں ؟؟“
انھوں نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھ کر سوال کیا
”میرے والدین اب اس دُنیا میں نہیں رہے ۔“
اس نے نظریں جھکائے آہستہ سے کہا
”اووو سوری۔۔۔ بیٹا!! ،،، مجھے معلوم نہیں تھا ،
کوئی بات نہیں ،،، مجھے تم اپنا سمجھو!! تم میری بیٹی جیسی ہوں ۔
اور اگر کبھی کسی چیز کی ضرورت ہو تو ہچکچانا مت ، اب تم آرام کروں میں چلتی ہوں ۔۔“
”ہمممم ۔۔ آپ بھی اپنا خیال رکھنا۔“
زارا انھی کے انداز میں بولی ۔
آپ تو میری اپنی ہیں اتنے دونوں بعد ملی ہیں مگر میں آپ کو سچ بھی نہیں بتاسکتی ،،، میں آپ کو پریشان نہیں دیکھ سکتی اور نہ یہ چاہتی ہوں کہ کوئی میری وجہ سے پریشان ہو۔۔ انکے جانے کے بعد وہ دوائی لے کر آرام کرنے لگی ،شام تک وہ پہلے سے بہتر محسوس کررہی تھی۔۔
نماز,کے بعد وہ لاؤنج میں آگئی ،،اب اسے کوئی ڈر نہیں تھا وہ انجان نہیں بلکہ اپنوں کے درمیان تھی۔
لاؤنج میں حلیمہ خاتون بیٹھی چائے پی رہی تھیں جبکہ زایان ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھا۔۔
حلیمہ خاتون اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اپنے برابر میں بیٹھنے کا کہنے لگیں
”ارررے زارا بیٹا۔۔۔ آؤ بیٹھو۔۔۔“
زارا با خوشی انکے برابر میں آکر بیٹھ گئی۔
اب وہ دونوں چائے سے لطف اندوز ہورہی تھیں۔
اور ساتھ انکی گفتگو بھی جاری تھی جب زایان کی نظر ان پر پڑی تو بھی ٹی وی آف کرتا ان کے گروپ میں شامل ہوگیا۔۔
”واہ کیا بات ہے ، آپ دونوں اکیلے اکیلے چائے پی رہیں اور مجھ غریب کو پوچھنا بھی گوارہ نہیں سمجھا۔
”ناٹ فیئر لیڈیز۔۔۔“
اس نے مظلموں کی شکل بناکر کہا جیسے وہ دُنیا کو ستایا ہوا شخص ہو۔
انکی بات سُن کر حلیمہ خاتون کو زور کی ہنسی آئی۔
”ہاہاہا۔۔۔ ابھی تو خود ہی کہہ رہے تھے کہ مجھے اب چائے اچھی نہیں لگتی ۔۔
”ہاں کہا تو سچ ہے ،،، پتہ نہیں اس محترمہ نے کیسی چائے پلائی تھی ، جو اب مجھے کسی اور کے ہاتھ کی بنی چائے اچھی نہیں لگتی،
” مما !!، آپ اس سے پوچھیں کہیں جادو وغیرہ تو نہیں کردیا ،،، ہائے اللہ مجھے کچھ دنوں سے عجیب سا فیل بھی ہورہا ہے۔۔
اس نے سر پر ہاتھ جمائے ایسی اداکاری کی کہ بڑے سے بڑا اداکار بھی اسکی اس حرکت پر اُسے داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔۔
حلیمہ خاتون اسکی حرکت پر زور زور سے ہنسنے لگیں البتہ زارا کو اسکی بچپن کا ایک واقع یاد آیا ۔
جب وہ پہلی مرتبہ گرمیوں کی چھٹی پر اسکے گھر آیا تھا ،، وہ اس سے مل کر کافی خوش تھی اور دونوں مل کر کھیل رہے تھے تبھی اچانک سے گیند لگ جانے پر وہ زور زور سے چینخنے لگا تھا ،اسے اس حالت میں دیکھ کر زارا کی تو جیسی جان حلق میں اٹک گئی تھی کیونکہ وہ گیند بھی اُسے اسکی وجہ سے ہی لگی تھی لیکن بعد میں سچائی پتہ لگنے پر اس نے اسکی اداکاری کو خوب سراہا تھا وہ اعلٰی قسم کا نوٹنکی باز تھا ۔
اور چوٹ لگنے کا ناٹک صرف زارا کو ڈرانے کےلئے تھا۔۔
اب بھی وہ بولے بغیر نہ رہ سکی ۔۔
” اونہہ۔۔۔ نوٹنکی نہ ہو تو۔۔۔“
مگر اسکے سامنے نہیں وہ دل ہی دل میں بولی تھی۔
____*____*____*___
دوسرے دن حلیمہ خاتون اُسے اپنے ساتھ لیئے شاپنگ مال لے آئی تھیں صبح ناشتے کی ٹیبل پر جب انھوں نے کہا تو زارا نے صاف منع کردیا تھا لیکن انکی ضد کے سامنے اسکی ایک نہ چلی اور اسے ساتھ چلنے پر آمادہ ہونا پڑا۔
اور یہاں آکر وہ کچھ نہ کچھ اس کےلئے پسند کرتی جاتیں اور زارا منع کرتی جاتی مگر آخر میں جیت حلیمہ خاتون کی ہی ہوتی ،،وہ اپنی پسند سے اسکے لئے بہت سارے ڈریس لے چکی تھیں ۔
پھر اسے کھڑی کرکے پیمنٹ کاؤنٹر کی طرف چلی گئی تھیں وہ انکا انتظار کرتی چند قدم آگے نکل گئی اور ساتھ آس پاس نظر دوڑا رہی تھی بہت پہلے وہ اپنے بابا کے ساتھ یہاں آیا کرتی تھی ،،، سچ میں وقت ایک سا نہیں رہتا بلکہ بدل جاتا ہے اور وقت کے ساتھ لوگ بھی بدل جاتے ہیں ،،، وہ بھی تو بدل گئی تھی اُسے جھوٹ بولنا نہیں آتا تھا لیکن زبیر کے ساتھ نے اسے جھوٹا بنادیا تھا وہ اسکا الزام اُس پر بھی نہیں لگاسکتی تھی کیونکہ جھوٹ بولنے کا ،ڈر کے رہنے کا فیصلہ بھی تو اسکا ہی تھا وہ ان سوچوں میں غرق کافی آگے نکل آئی تھی اچانک سے کسی سے ٹکرانے پر اپنے ہوش و حواس میں آئی۔۔
”سوری ۔۔۔“اس نے ایک لفظ معذرت کا ادا کیا وہ سامنے موجود آدمی کو نہیں دیکھی تھی جبکہ اسکے مدمقابل شخص جیسے اسے پہچان گیا تھا ۔
”السلام علیکم بھابھی !!، آپ یہاں ؟؟ ، زبیر نے بتایا ہی نہیں وہ کراچی آیا ہوا ہے۔۔“
زارا اس آدمی کو جانتی تھی، وہ اس سے اپنے ولیمہ کے فینکشن میں مل چکی تھی وہ زبیر کا دوست عاصم تھا۔۔
اس نے تھوک نگلتے ہوئے اٹک اٹک کر اسکے سلام کا جواب دیا اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی حلیمہ خاتون کے پُکارنے پر وہ پلٹی تھی۔
”زارا!!،، کہاں چلے گئی تھی ؟ بیٹا ، میں تمہیں کب سے ڈھونڈ رہی تھی ۔“
جب وہ واپس آئیں ، زارا کو وہاں نہ پاکر اسے ڈھونڈنے لگیں اور پھر چند قدم کے فاصلے پر بھیڑ کی طرف اسے زارا کسی سے بات کرتی نظر آئی تو سیدھا وہاں پہنچیں۔
”وہ ۔۔ میں بس یونہی تھوڑا آگے نکل آئی۔۔“
زارا نے انکے آنے پر شکر ادا کیا ،، وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ زبیر کو اس کے کراچی میں ہونے کی خبر ملے۔۔
”اور یہ کون ہیں بیٹا ؟؟ کیا تم انھیں جانتی ہو۔۔؟“
”ہم پہلے ملے تھے بس اتنا ہی جانتی ہوں ،،، گھر چلیں!“
حلیمہ خاتون کے سوال کرنے پر اس نے بس اتنا ہی کہا
پھر وہ دونوں ایک ساتھ آگے بڑھ گئیں ۔۔
جبکہ عاصم اسے آواز لگاتا رہ گیا۔۔
”انھیں کیا ہوگیا ہے ،، کچھ بتایا بھی نہیں ،
خیر چھوڑو ۔۔۔ میں خود ہی پوچھ لونگا زبیر سے ،، اگر کراچی آنا تھا تو مجھے بتانا تھا کم از کم مجھ سے ملاقات ہوجاتی۔“
وہ خود کلامی کرتے ہوئے اگے بڑھ گیا۔۔
_____*___*___

No comments:
Post a Comment