Friday, 16 August 2019

Tumhari Madh Aur mera Qalam Ho ||Episode#4

#تمہاری_مدح_اور_میرا_قلم_ہو 
( عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر ) 
#چوتھی_قسط 
#از_صالحہ_منصوری 

ساری رات وہ سڑک پر بیٹھا اپنے آپ پر ماتم کرتا رہا جب فجر طلوع ہوئی تو مؤذن کی مترنم آواز اس کے کانوں میں پڑی :

" اللّه اکبر اللّه اکبر ۔"

اذان نے اپنا سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جیسے کچھ کھوج رہا ہو ۔ مؤذن نے دوبارہ اللّه کی بڑائی بیان کی تو وہ کھو سا گیا ۔ دل نے سوال کیا :

" کون ہے اللّه ۔؟" 

ٹھیک اسی وقت مؤذن کی آواز آئی : " اشھد ان لا الہ الا اللّه ۔ " 

اذان خود پر قابو نا رکھ پایا بے اختیار وہ آگے جھک گیا ۔ ہاں وہی تو اللّه ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہا، اسے ہر چیز سے نوازا لیکن سکون اسے کہیں نہیں ملا کیوں کہ دلوں کا سکون اللّه کی یاد میں ہوتا ہے اور وہ اللّه کو یاد ہی کب کرتا تھا ۔ دور کہیں سے مؤذن نے پھر کہا : 

" اشھد ان محمّد الرسول اللّه ۔" 

اسے بے ساختہ آیت کی باتیں آئیں ۔ وہ صحیح تو کہہ رہی تھی کہ حقیقی محبت تو انہوں نے کی ۔۔ پرخلوص اور نہایت پاکیزہ ۔۔ بلکہ اخلاص اور پاکیزگی سے محبت کرنا خود ان کی تعلیم ہے ۔ 

" حی علی الصلاة ۔" 

اذان کو یاد نہیں آ رہا تھا کہ کسی نے کبھی اسے نماز پڑھنے کہا ہو ۔ 

" حی علی الفلاح ۔" 

اسے کسی نے نماز کی جانب نہیں بلایا، کسی نے اسے فلاح کا راستہ نہیں دکھایا ۔ 

" اللّه اکبر اللّه اکبر ۔۔
لا الہ الا اللّه ۔" 

اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا ۔ سب کچھ ہونے کے بعد بھی وہ کتنا بڑا محروم انسان تھا کہ اسے اپنے خالق کی بارگاہ میں سر جھکانے کا کبھی خیال تک نہیں آیا ۔ زندگی کی ہر آسایش میسّر ہونے کے بعد بھی وہ سکون سے محروم تھا ۔ اس کا دل غم سے پھٹا جا رہا تھا ۔ یہ احساس ہی اسے اذیت کے گہرے پاتال میں جھونک رہا تھا کہ وہ اپنی پہچان تک واقف نہیں ۔ اس نے اپنے آنسو صاف کئے اور ایک بھیگی سانس لے کر ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو قریب ہی ایک مسجد کا مینار کسی ستارے کی طرح چمکتا ہوا دکھائی دیا ۔ وہ اٹھا اور مسجد کی جانب بڑھنے لگا جیسے کوئی بچہ تکلیف میں اپنی ماں کی آغوش کو کھوجتا ہے ٹھیک اسی طرح اذان مسجد کی جانب بڑھ رہا تھا ۔ ابھی وہ مسجد سے کچھ ہی فاصلے پر تھا کہ اچانک اسے ٹھوکر لگی اور وہ لڑکھڑا گیا مگر اس سے قبل کہ وہ گرتا کسی مضبوط ہاتھ نے اسے سہارا دیا ۔ 

" سنبھال کر میرے بچے ۔" اذان نے انہیں دیکھا وہ کوئی پچاس پچپن برس کے عمر دراز بزرگ تھے ۔ لمبی کالی داڑھی جن میں کہیں کہیں سفید بال ان کی پکی عمر کے گواہ تھے ۔ سفید شلوار قمیص میں ملبوس وہ سیاہ ٹوپی لگائے بہت باوقار لگ رہے تھے ۔ 

" تھ ۔۔۔ تھینک یو ۔" اس کی زبان ساتھ دینے سے انکاری ہو گئی اور آنکھیں بےساختہ نم ہونے لگیں ۔ بزرگ نے اسے ابتر حال میں دیکھا تو پوچھ بیٹھے ۔

" کہاں جانا ہے بیٹا ۔" 

اذان نے کچھ نہیں کہا بس پہلے انہیں دیکھا پھر مسجد کو ۔ وہ بزرگ اس کا مطلب سمجھ گئے اور اذان کی ہتھیلی پکڑ کر ساتھ ساتھ مسجد کی طرف بڑھنے لگے ۔

" ادھر وضو خانہ ہے ۔۔ وضو کر لو اور مجھ سے ملے بغیر مت جانا ۔" وہ اتنا کہہ کر آگے بڑھ گئے ۔ اذان نے بےبسی سے انہیں جاتا دیکھا وہ کس طرح کہتا کہ اسے وضو کرنا نہیں آتا ۔ اذان ماربل کے بنے چوکھٹے پر بیٹھ گیا اور سامنے لگے نل سے بہتے پانی کو ہاتھ میں لے کر منہ پر مارا ۔ چہرے پر جب پانی کے چھینٹے پڑے تو منظر دھندلا گیا ۔ وہ اللّه کے گھر میں وضو خانے پر بیٹھ کر ایک مرتبہ پھر رونے لگا ۔ اسے اس پل اپنا آپ بہت بےبس محسوس ہوا ۔ تبھی ساتھ والے چوکھٹے پر بیٹھتے ہوئے ایک لڑکے نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا ۔ اذان نے اسے دیکھا ، خوبرو سا وہ لڑکا سفید پٹھانی میں ملبوس اسی کا ہم عمر لگ رہا تھا ۔

" کیا ہوا بھائی ۔۔ رو کیوں رہے ہو ۔؟" اس نے نرم لہجے میں پوچھا ۔ 

" کچھ نہیں ۔۔" اذان نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر اسے پر امید نگاہوں سے دیکھا ۔" کیا تم مجھے وضو کرنا بتا سکتے ہو ۔؟" یہ جملہ اذان نے کتنی مشکل سے ادا کیا وہی جانتا تھا ۔ 

" ضرور کیوں نہیں ۔" وہ مسکرایا پھر اذان کو پہلے تسمیہ پڑھنے کہا ۔

" وضو شروع کرنے سے پہلے بسم اللّه ضرور پڑھنا کیوں کہ حدیث میں آتا ہے کہ جو بسم اللّه کے بغیر وضو کرے تو اسے چاہئے کہ دوبارہ وضو کرے ۔ ( سنن دارمی ) " 

" اور اگر نا پڑھوں تو ۔؟"

" تو آپ کی نماز ہو جائے گی لیکن فضیلت کا جو ثواب ہے آپ اس سے محروم ہو جاؤ گے ۔" نرمی سے بولتا وہ لڑکا اذان کو بہت بھلا معلوم ہوا ۔ اذان نے اس کی نقل کرتے ہوئے وضو کرنا شروع کیا ۔ 

" ایک ایک اعضاء کو اچھے سے دھؤ کیوں کہ وضو کرنے سے انسان کے گناہ جھڑتے ہیں ۔ " وہ ساتھ ہی ساتھ بولتا بھی جا رہا تھا ۔" ویسے وضو کے دوران بولنا منع ہے لیکن آپ کی مدد کرنا زیادہ ثواب ہے اس لئے میرا بولنا غلط نہیں ۔" 

اذان نے چپ چاپ اس کی اتباع کرتے ہوئے پیر دھوئے پھر اس لڑکے نے مڑ کر وضو کے بعد کی دعا اذان کو ایک ایک لفظ توڑ کر پڑھائی ۔ 

" تمہارا بہت شکریہ ۔" 

" نماز کیسے پڑھو گے ۔؟" اس نے اذان کا شکریہ یکسر نظر انداز کر دیا ۔ 

" پتا نہیں ۔" اذان نے نگاہیں جھکا لیں ۔ مقابل کھڑے لڑکے نے ایک گہری سانس لی ۔ 

" آئیں میرے ساتھ ۔۔ ابھی وقت نہیں کہ سمجھا سکوں ورنہ جماعت چھوٹ جائے گی لیکن آپ ویسا کرنا جیسا سب کرتے ہیں ٹھیک ۔ " وہ اسے لے کر ایک صف میں آیا اور نیت پڑھائی ۔ نماز شروع ہو چکی تھی اذان کو اگرچہ نماز صحیح طور پڑھنی نہیں آئی لیکن اسے اپنا آپ پرسکون ہوتا محسوس ہوا ۔ جب جب وہ سجدے میں گرا اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے محبت سے اسے اپنی باہوں میں بھینچ رکھا ہو ۔ اسے اپنی روح میں سکون سرایت ہوتا محسوس ہوا ۔نماز پوری ہونے کے بعد امام صاحب نے کھڑے ہوکر سلام پڑھا : 

" سب جہت کے دائرے میں ،
شش جہت سے تم ورا ہو ،
سب تمہارے در کے رستے ،
اک تم ہی راہ خدا ہو ۔

یا نبی سلام علیک ۔۔۔
یا رسول سلام علیک ۔۔۔ " 

امام صاحب اور بھی کچھ پڑھ رہے تھے لیکن اذان کا ذہن تو آخری شعر میں ہی اٹک گیا ۔ کتنا واضح اور پیارا شعر تھا کہ دنیا جہان بھر کے تمام راستے نبی آخرالزماں ﷺ پر ہی تو جا کر رک جاتے ہیں اور نبی کریم کا راستہ اللّه کا راستہ ہے جو آپ ﷺ کو نہیں جانتا وہ اللّه کو نہیں جان سکتا ۔ 

" اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ترجمہ:’’ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انکو کہہ دیجئے کہ اگرتم کو اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کا دعوٰی ہے تو میری پیروی کرو)اگر تم پیروی کرو گے تو(اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا،تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گاکیونکہ اللہ بڑا بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ ال عمران313

سلام مکمّل ہو چکا تھا لوگ ایک دوسرے سے مصافحہ کر کے باہر جانے لگے ۔ وہ لڑکا امام سے مصافحہ کرنے گیا تو اذان وہیں دوبارہ بیٹھ گیا جہاں اس نے اپنی زندگی کی پہلی نماز پڑھی تھی ۔ کچھ دیر بعد اسے وہ لڑکا اور امام صاحب اپنی طرف آتے دکھائی دئے ۔ دل اتنا خالی ہو چکا تھا کہ وہ چاہ کر بھی اٹھ نا پایا بس خالی خالی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگا ۔

" اس لڑکے سے تو مل ہی چکے ہو گے یہ صادق ہے میرا بیٹا ۔" امام صاحب نے اس کا تعارف کرایا پھر صادق کی طرف مڑے ۔" تم بازار سے ناشتہ لے آؤ اور مجھے گھر پر ملو ۔" صادق نے سر جھکا کر ان کی باتیں سنیں پھر سلام کر کے چلا گیا ۔

" بیٹا تم میرے ساتھ چلو ۔" انہوں نے اپنا ہاتھ آگے کیا تو اذان نے بنا کچھ سوچے ان کے ہاتھ کو تھام لیا ۔ وہ اسے اپنے گھر لے آے ۔ یہاں آکر اسے علم ہوا کہ امام صاحب کا نام ہدایت اللّه تھا اور صادق ان کا اکلوتا بیٹا ۔ امام صاحب کی بیوی کو فوت ہوئے دو سال گزر چکے تھے ۔ ان کا گھر ایک بیڈروم ، ہال ، کچن پر مبنی چھوٹا سا لیکن خوبصورت فلیٹ تھا ۔ 

" بیٹھو ۔" انہوں نے ہال میں بچھی ہوئی قالین پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔ اذان خاموشی سے ان کے مقابل بیٹھ گیا ۔ اسے حیرت تھی کہ امام صاحب نے اس کا نام تک نہیں پوچھا بلکہ اپنی باتیں کرتے ہوئے اس کا دل بہلاتے رہے ۔ جب صادق آیا تو انہوں نے باہر کے بنے ہوئے انڈے ، کباب ، پاؤ اور چائے کھاری سے ناشتہ کیا ۔ ناشتے سے فارغ ہو کر صادق برتن دھونے چلا گیا تو امام صاحب نے اذان کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر اسے سونے کی خاطر ایک بستر لا کر دے دیا ۔ ذہنی ، جسمانی طور پر تھکا ہوا اذان نرم تکیہ پاتے ہی نیند کی گہری آغوش میں سو گیا ۔ نا جانے وہ کتنی ہی دیر سوتا رہا جب صادق نے اس کا شانہ آہستہ سے ہلایا ۔

" بھائی ۔۔۔ سنو بھائی اٹھ جاؤ ۔" اذان نے آنکھیں کھولیں تو دن کے بارہ بج رہے تھے ۔ اسے اپنا جسم جلتا ہوا محسوس ہوا ۔ 

" تمہارے سونے کے بعد ابو اپنے کمرے میں چلے گئے تھے ۔ کچھ دیر کتابوں کا مطالعہ کر کے واپس آے تو تمہیں بخار میں تپتا پایا ۔ وہ واپس اپنے کمرے میں کوئی دوا بنا رہے ہیں ۔ تم نہا لو تھوڑا اچھا لگے گا جب تک میں تمہارے کھانے کے لئے کچھ لاتا ہوں ۔" وہ اذان کے سامنے اپنا ایک سفید شلوار سوٹ رکھتے ہوئے گویا ہوا ۔ اذان نے اثبات میں سر ہلا کر اٹھنے کی کوشش کی لیکن نقاہت سے دوبارہ بیٹھ گیا ۔

" اوہ ۔۔۔ چلو کوئی بات نہیں میں تمہیں سہارا دے دیتا ہوں ۔" صادق نے اذان کو سہارا دیتے واش روم کے دروازے پر لا کھڑا کیا اور پھر خود اندر جا کر اس کے کپڑے لٹا دئے ۔ 

" اب تم نہا کر جلد آ جاؤ پھر کچھ کھا کر دوا لے لینا ٹھیک ہو جاؤ گے ۔" وہ واش روم سے نکل کر باہر چلا گیا ۔ 

***

اذان نے غسل کرنے کے بعد صادق کے دئے ہوئے کپڑے پہنے اور امام صاحب کے پاس آ بیٹھا ۔ امام صاحب اسے دیکھ کر مسکرائے اور شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔ اتنی دیر میں صادق بھی وہاں آ چکا تھا اور اذان کے قریب ہو کر بیٹھ گیا ۔

" آپ لوگ بغیر کچھ جانے میری مدد کیوں کر رہے ہیں ۔" اذان نے پوچھا تو امام صاحب اور صادق کے لبوں پر مسکراہٹ آ ٹھہری ۔ 

" کیوں کہ یہ اللّه کے سچے رسول ﷺ کا طریقہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرو ، بھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھاؤ اور ضرورت مندوں کے کام آؤ ۔" ان کی بوڑھی آنکھوں میں نرمی اتر آئی ۔ 

" آپ میرے متعلق کچھ جاننا نہیں چاہیں گے ۔؟" اذان نے دوبارہ سوال کیا ۔

" بتا دوگے تو خوشی ہوگی اور شاید ہم تمہاری مدد بھی کر سکیں لیکن اگر نہیں بتانا چاہتے تو کوئی بات نہیں ۔" انہوں نے سادگی سے جواب دیا ۔ 

" میں بتانا چاہتا ہوں لیکن سمجھ نہیں آ رہا کیسے کہوں ۔؟" اذان اپنی کیفیت خود نہیں سمجھ پا رہا تھا ۔ 

" ہمم۔۔۔ چلو آسان کر دیتے ہیں ۔" امام صاحب گویا ہوئے ۔" نام کیا ہے تمہارا ۔؟" 

" اذان ۔" 

" ماشاء اللّه تعالیٰ ۔" وہ خوش ہوئے ۔" اچھا کہاں رہتے ہو ۔؟ گھر میں کون کون ہے ۔؟" 

" یہیں رہتا ہوں ۔۔ اسی شہر میں ۔۔ " اذان کھوۓ کھوۓ انداز میں بولا ۔" گھر میں مما پاپا اور میں بس ۔" 

"اور کرتے کیا ہو تم ۔؟" امام صاحب کا لہجہ ایسا تھا کہ جیسے وہ کسی کی مدد نہیں کر رہے بلکہ کسی عزیز دوست سے بات کر رہے ہوں ۔

" اسٹڈی کرتا ہوں فائنل ائیر ہے ۔" 

" اچھا ۔۔ مولا کامیابی دے ۔ " وہ سمجھ کر سر ہلاتے ہوئے بولے ۔ 

" جی ۔" 

" پھر بیٹا تمہارے کے ساتھ کل رات کیا ہوا تھا ۔؟" اب کی مرتبہ وہ تھوڑا آگے ہو بیٹھے ۔

" کل رات ۔۔۔" اذان کی آنکھوں کے سامنے گزشتہ شب کا منظر گھوم گیا ۔ آیت کا گریز کرنا ، محبت کو پہلی مرتبہ محسوس کرنا ، خود اپنے آپ کو پہچاننے کے بعد دین سے محرومی پر ماتم کرنا ، سب کچھ ذہن کی اسکرین پر تازہ ہو گیا تھا ۔ اذان نے ایک نظر انہیں دیکھا پھر جانے کیسے اپنے آپ کو بند خول میں رکھنے والا اذان اپنے احساس کو ، اپنی حیات کو ان کے سامنے ایک ایک کر کے بیان کرنے لگا ۔ بچپن سے لے کر آج تک جو بھی کیا ، پھر آیت کے متعلق اور پھر اپنی زندگی کی پہلی نماز کے متعلق بتایا ۔ وہ نماز جس میں اس نے کوئی دعا نہیں پڑھی تھی لیکن پھر بھی اسے عزیز تھی کیوں کہ وہ پہلی بار اپنے رب سے ہم کلام ہوا تھا ۔ 

" لیکن امام صاحب جب اندھیرے کے بعد میں روشنی کی طرف آنا چاہتا ہوں تو مجھے تکلیف کیوں ہو رہی ہے ۔ میرے اندر جیسے ایک جنگ سی چھڑ گئی ہو ۔ یہاں ۔۔۔۔" اس نے اپنے سینے پر دل کے مقام پر ہاتھ رکھا ۔" یہاں ۔۔ بہت درد ہو رہا ہے ۔ میں سمجھ نہیں پا رہا اس اذیت سے کیسے چھٹکارا پاؤں ۔؟" وہ رو رہا تھا اور ساتھ ہی قریب بیٹھے صادق کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں ۔ امام صاحب کا سر جھکا ہوا تھا جب کچھ دیر بعد انہوں نے سر اٹھایا تو ضبط کے آثار ان کے چہرے پر بھی تھے ۔ 

" آفرین ہے اس لڑکی کے ایمان پر ۔۔۔ ہمارے دل روشن ہو گئے تمہاری باتیں سن کر ۔" انہوں نے رومال سے اپنا چہرہ پوچھتے ہوئے آنسوؤں کو صاف کیا ۔ 

" پھر ۔۔ پھر یہ تکلیف کیوں ہے امام صاحب ۔؟ کیوں میرا دل بے چین ہے ، کیوں بے سکون ہوں ۔۔؟" اذان کرب کی جس حالت میں تھا وہی جان سکتا تھا ۔ 

" یہ منزل عشق کی آواز ہے اذان تم نے غور نہیں کیا کہ آیت نے کہا تھا محبت محمّد ﷺ ہیں ۔ تمہیں دین کی لذّت آج محسوس ہوئی ہے اور وہ لڑکی جانے کب سے محبت کئے جا رہی ہے ۔ محبت یہی تو ہے کہ محبوب کے خفا ہونے کا ڈر بھی روح کو تڑپا دینے کی طاقت رکھتا ہے ۔ ہمیں ہر اس کام سے ڈر لگنے لگتا ہے جس سے محبوب ناراض ہو یا اسے پسند نا ہو یا پھر اسے تکلیف ہو ۔ " 

" لیکن محبت تو خوشی کا دوسرا نام ہے ۔" اذان نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا ۔

" محبت گلاب کے پودے کی طرح ہوتی ہے ۔ اس کی نرم پتیوں کے ساتھ کانٹوں کو بھی قبول کرنا پڑتا ہے ۔" 

" اور ۔۔ اور اگر وہ کانٹے آپ کی روح میں اتر کر احساسات کو چھلنی کر دیں، آپ کا دم گھٹنے لگے اور درد اتنا ہو کہ آپ برداشت نا کر سکیں تب ۔؟" وہ جیسے اپنے روح پر موجود زخم کرید رہا تھا ۔ 

" اگر ایسا وقت کبھی زندگی میں آے تو اسے ضائع مت کرنا، یہ وقت تو عشق کی معرفت کا ہے۔ ایسے وقت میں تم خود کو کندن بنا لے گئے تو یقین کرو کہ تمہاری محبت ہمیشہ کے لئے امر ہو جائے گی ۔ " انہوں نے مڑ کر دیوار سے لگی گھڑی کو دیکھا تو ظہر کا وقت قریب تھا ۔ " آؤ نماز پڑھنے چلتے ہیں وقت ہو رہا ہے ۔" وہ اٹھ گئے تو اذان اور صادق بھی کھڑے ہو گئے ۔ 

***

ظہر کے بعد وہ امام صاحب کے گھر واپس آ گیا۔ صادق نے ان کے سامنے کھانا رکھا ۔ نرم روٹی، بھنا ہوا گوشت ، دال ، چاول اور مکس اچار ۔ 

" یہ سب تم نے بنایا ہے ۔؟" اذان صادق کو پھرتی سے کام کرتے ہوئے دیکھ کر اچنبھے سے پوچھنے لگا جس پر وہ محض مسکرا کر رہ گیا ۔

" ہاں ۔۔ اچار باہر سے آتا ہے باقی سب میں نے بنایا ہے ۔" صادق نے امام صاحب کی پلیٹ میں کھانا ڈالا اور پھر اذان اور وہ اپنا کھانا نکال کر کھانے لگے ۔ کھانا اتنا مزے دار تھا کہ اذان کو وہ سادہ سا کھانا مہنگے مہنگے ہوٹل کے کھانوں سے زیادہ اچھا لگا ۔ کھانے کے بعد امام صاحب نے اسے دوا کھلائی اور آرام کرنے کے لئے کہہ دیا ۔ اذان ان دونوں کے اخلاق سے اتنا متاثر ہوا کہ چند ہی گھنٹوں میں وہ ان کے ساتھ ایسا گھل مل گیا جیسے ہمیشہ سے انہیں کے درمیان رہتا رہا ہو ۔ اسے اپنا آپ بہت ہلکا پھلکا سا لگ رہا تھا ۔ جب عصر بعد وہ اپنے گھر جانے لگا تو امام صاحب نے اسے دوا کی پڑیا تھمائی اور کہا : 

" جو آگ تم اپنے سینے میں روشن کر چکے ہو اسے بجھنے نا دینا اور تم واقعی دین کے قریب آنا چاہتے ہو تو ہر روز ظہر بعد میرے پاس چلے آنا مجھے تمہاری تربیت کر کے جو خوشی ملے گی وہ میں ہی جانتا ہوں ۔ تمہیں دین کو سیکھنا ہے اذان ، نماز صرف اٹھنے بیٹھنے سے ادا نہیں ہو جائے گی تمہیں ایک ہفتے کے اندر تمام دعا یاد کر کے اصل نماز شروع کرنی ہے ۔" وہ نصیحت آمیز لہجے میں اسے سمجھا رہے تھے اور اذان بغور سن رہا تھا ۔ 

" میں ضرور آؤں گا ، میرا عشق مجھے یہاں کھینچ لائے گا ۔" وہ اتنا کہہ کر تھوڑا جھکا اور ان کے ہاتھ کا بوسہ لے کر سیدھا ہوا ۔ امام صاحب نے اسے گلے لگا لیا ۔ 

" میرے بچے اللّه تمہارے دل کو ہمیشہ روشن رکھے ۔" 

اذان امام صاحب سے مل کر الگ ہوا تو صادق سے گلے ملا ۔ انہوں نے آپس میں فون نمبرز کا تبادلہ کیا اور خدا حافظ کہہ کر علیحدہ ہو گئے ۔

*** 

آیت اپنے کمرے میں تنہا بیٹھی خلاؤں میں گھور رہی تھی جب ایک ہلکی سی دستک کے ساتھ دروازہ کھلا اور نایاب نے کمرے میں جھانکا ۔

" اجازت ہے ۔؟" 

" ضرور ۔" وہ مسکرا کر گویا ہوئی ۔ نایاب اس کے پاس آ بیٹھی ۔ 

" کیا سوچا جا رہا ہے ۔؟" اس نے آیت کے شانے پر سر رکھا ۔ 

" پتا نہیں بس طبیعت بوجھل سی ہے ۔" 

" اچھا سنو ۔۔" نایاب سیدھی ہو بیٹھی ۔" مجھے تمہیں کچھ بتانا تھا ۔" 

" بولو ۔" 

" آیت وہ ۔۔۔ جس دن تم اذان سے ملی تھی ۔" نایاب نے رک کر اس کا چہرہ دیکھا جو ہنوز سنجیدہ تھا ۔" اس رات وہ گھر نہیں گیا تھا ۔" 

" تو ۔؟" آیت کی پیشانی پر لکیریں نمایاں ہو گئیں ۔ 

" وہ یہاں سے کچھ دور ایک مسجد کے امام کے پاس رہ رہا تھا ۔" نایاب اسے سب بتاتی گئی ۔ آیت کا چہرہ زرد پڑ گیا ۔ 

" ت ۔۔ تمہیں کیسے پتا۔۔" وہ بس اتنا ہی بول پائی ۔

" اذان نے زارون کو بتایا تھا وہ ہمارا مشترکہ دوست ہے ۔" نایاب نے اپنی نظریں چرا لیں اور اٹھ کر چلی گئی ۔ آیت نے بے اختیار داہنی طرف لگے سبز گنبد کے طغرے کو دیکھا ۔ نبئ کریم ﷺ کے انور اب بھی دنیا کو سیراب کر رہے تھے اور کیوں نا کرتے ۔ آپ ﷺ رحمتہ اللعالمین ہیں تمام عالم کے لئے رحمت اور یہ ہر زمانے کے لئے ہے ۔ آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک ہر دور کے لئے آپ رحمت ہیں ہمیشہ سے ۔۔ اور اس کا ثبوت ہے کہ آدم علیہ السلام کی توبہ آپ ﷺ کے وسیلے سے قبول ہوئی اور کل قیامت میں آپ ﷺ کی شفاعت پر ہی خدا مومنین کے لئے جنّت کے دروازوں کو کھول دے گا ۔ ان دو واقعات کے درمیان ہم کہاں تک ڈھونڈ سکیں گے کہ نبئ کریم ﷺ کے صدقے حق تعالیٰ نے کیا کچھ مومنین پر کرم نا کیا ۔؟ ہم شمار کیا گمان بھی نہیں کر سکتے ۔ 

❤ یہ سب تمہارا کرم ہے آقا ﷺ ،
کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے ۔ ❤ 

آیت نے روضہ پرنور کو دیکھتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اشک بند آنکھوں سے پلکوں کو بھگوتے ہوئے ٹھوڑی پر آ رکے ۔

***

No comments:

Post a Comment