#تمہاری_مدح_اور_میرا_قلم_ہو
( عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر )
#چھٹی_قسط
#از_صالحہ_منصوری
رات کی سیاہی پورے جہاں کو اپنے حصار میں لئے ہوئے تھی ۔ سنسان سڑک پر کہیں کہیں نائٹ بلب جلتے دکھائی دے جاتے ورنہ ماحول پر ایک پراسرار سی خاموشی کا گمان ہوتا تھا ۔ ایسے عالم کنارے کی سمت بنے خوبصورت گھر کی ایک کھڑکی سے روشنی جھانک جھانک کر اندھیرے کو مٹانے کی سعی کر رہی تھی ۔ یہ آیت کا کمرہ تھا جو اپنے کمرے میں موجود تہجد کی نماز ادا کر رہی تھی ۔ سلام پھیر کر اس نے اپنی نماز مکمّل کی ۔ دل اتنا خالی تھا کہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھا ہی نہیں سکی ۔ بس خالی خالی آنکھوں سے گود میں رکھے ہاتھ کو دیکھتی خاموش آنسوؤں کے ساتھ روتی گئی ۔ کبھی کبھی بندہ اتنا تہی دامن ہو جاتا ہے کہ اس کے پاس دعا کرنے کے لئے بھی الفاظ تک باقی نہیں بچتے اگر ایسا کبھی وقت ہو ناں تو بندے کو چاہئے کہ وہ بس خاموش ہو کر آنسوؤں کی زبانی اپنے رب کی طرف جھک جائے ، کیوں کہ وہ اللّه سب جانتا ہے ۔ ایسے ہی لمحے تو قبولیت کے ہوتے ہیں جب زبان خاموش ہو جائے اور آنکھیں دلوں کی ترجمان بن جائیں ۔ آیت کے لئے بھی وہ لمحہ ایسا ہی تھا ۔ روتے روتے اس کے آنسوؤں میں مزید روانی آ گئی اور وہ سجدے میں جھک کر ایک پہلو پر ہو گئی ۔
" اللّه ۔۔" مصلّیے کو مٹھیوں میں جکڑے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔ " مجھے ایسی آزمائش سے نا گزارنا میرے مولا کہ میں ٹوٹ جاؤں ۔۔ مجھے گناہوں سے بچانا ۔۔ مم ۔۔ میں ۔" اس کے لفظ ٹوٹ رہے تھے ۔" میں روز محشر نبی کریم ﷺ کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہتی ۔۔ میرے مالک تیری بندی بہت کمزور ہے ، میرے گناہ معاف فرمانا ۔۔۔ او ۔۔ اور از ۔۔ اذان ۔۔" اذان کا نام اپنی زبان سے ادا کرتے اسے کتنی مشکل ہوئی وہی جانتی تھی کہ ایک غیر مرد کا نام وہ اپنے رب کے سامنے لے رہی تھی ۔" اذان کو صراط مستقیم پر چلانا ۔۔ اسے صحیح معنوں میں مومن بنانا ۔۔ " اس کے آگے آیت کے الفاظ دم توڑ گئے اور شدت گریہ سے اس پر غشی سی طاری ہو گئی ۔اس کی آنکھیں بند ہوئی اور جسم ایک طرف لڑھک گیا ۔
دور کہیں اذان بھی اپنے کمرے میں موجود اسی کیفیت سے گزر رہا تھا ۔ دونوں کی دعا تقریباً ایک جیسی ہی تھی ہاں اذان کی دعا میں آیت کا نام شامل ہوتا ، محرم بننے کی خواہش ہوتی ، آیت اس کے لئے صرف اس کی محبت نہیں تھی وہ آیت سے عقیدت رکھتا تھا ۔ اس لڑکی کا تقویٰ ہی تو تھا کہ اذان کو اس کی آنکھوں میں عشق حقیقی کا عکس نظر آیا تھا ۔ وہ اسے اس کے رب سے ملانے کا ذریعہ بنی تھی ۔ اذان اور آیت دونوں ہی ایک دوسرے سے بے خبر تہجد میں رو رہے تھے ۔ ایک وجود شدّت غم سے بے ہوش ہو چکا تھا تو دوسرا وجود اپنے سینے میں اٹھتے درد سے مجبور ہو کر زمین پر ہی سجدے کی حالت میں ڈھے گیا تھا ۔
***
فرشتے جس کے زائر ہیں مدینے میں وہ تربت ہے ،
یہ وہ تربت ہے جس کو عرش اعظم پر فضیلت ہے ۔
مدینہ گر سلامت ہے تو پھر سب کچھ سلامت ہے ،
خدا رکھے مدینے کو اسی کا دم غنیمت ہے ۔
( کلام حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ اختر رضا خان صاحب ازہری رضی اللّه تعالیٰ عنہ )
اذان امام صاحب کے مقابل بیٹھا بہت غور سے سن رہا تھا ۔ امام صاحب اسے روز کی طرح درس دینے میں مشغول تھے :
" اور دعائیں اسی وقت قبول ہوں گی جب تم دعا سے قبل اور بعد میں درود پڑھو ۔ "
" کیوں حضرت ! درود کی قید کے بنا کیا اللّه دعا نہیں سنتا ۔؟ آپ نے تو کہا تھا کہ اللّه بندے کی دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے ۔" اذان نے سوال کیا تو امام صاحب نے اپنی بوڑھی آنکھیں آسمان پر ٹکا دیں ۔
" وہاں دیکھو ۔" انہوں نے کھڑکی سے نظر آتے شفاف آسمان کی طرف اشارہ کیا ۔ اذان نے انہیں کی طرح آسمان کو دیکھا ۔" یہ جو آسمان ہے ناں ساری دعائیں یہیں سے گزرتی ہیں اور اس سے پہلے کہ تم پوچھو کہ آسمان سے ہی کیوں زمین یا سمندر سے کیوں نہیں گزرتی تو بتا دوں کہ آسمان اعلیٰ مقام ہے ، فرشتوں کی سجدہ گاہ اور مسکن ۔۔۔ جب کوئی دعا بنا کسی درود کے کی جاتی ہے تو فرشتے پہلے آسمان سے ہی اس دعا کو لوٹا دیتے ہیں کہ یہ دعا بنا درود کے بارگاہ الہی تک پہنچ ہی نہیں سکتی ۔" امام صاحب کی باتیں سن کر اذان کھو سا گیا ۔
" بیٹا یہ صرف دعا کی بات نہیں ہے بلکہ اگر ہم اپنی زندگی میں غور کریں تو ہمیں علم ہوگا کہ جس طرح دعا درود کے بنا قابل قبول نہیں اسی طرح زندگی نبی کریم ﷺ کی اتباع اور محبت کے بنا زندگی ہی نہیں ۔ میں تمہیں اور آسانی سے بتاتا ہوں دیکھو ۔۔۔ قرآن حکیم میں اللّه تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ : ﺍُﻭﻟٰﺌِﮏَ ﺍﻟَّﺬِﯾْﻦَ ﯾَﺪْﻋُﻮْﻥَ ﯾَﺒْﺘَﻐُﻮْﻥَ ﺍِﻟٰﯽ ﺭَﺑِّﮭِﻢُ ﺍﻟْﻮَﺳِﯿْﻠَﺔَ ﺍَﯾُّﮭُﻢْﺍَﻗْﺮَﺏُ ﻭَﯾَﺮْﺟُﻮْﻥَ ﺭَﺣْﻤَﺘَﮧ ﻭَﯾَﺨَﺎﻓُﻮْﻥَ ﻋَﺬَﺍﺑَﮧ ۔ ﺍِﻥَّ ﻋَﺬَﺍﺏَﺭَﺑِّﮏَ ﮐَﺎﻥَ ﻣَﺤْﺬُﻭْﺭًﺍ ً ('ﺳﻮﺭﮦ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮ ﺍﺋﯿﻞ ﺁﯾﺖ ٥٧ ('' ﯾﮧ ﻟﻮ ﮒ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯﺭﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻭﺳﯿﻠﮧ ﺗﻼﺵ ﮐﺮ ﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻘﺮﺏ ﮐﻮ ﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ) ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ( ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯﺧﺎﺋﻒ ﮨﯿﮟ ﺑﮯ ﺷﮏ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺭﺏ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﮈﺭﻧﮯ ﮐﯽﭼﯿﺰ ﮨﮯ ۔
ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﻣﺠﯿﺪﮦ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﻧﺰﻭﻝ ﯾﻮ ﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ'' ﮐﺎﻥ ﻧﺎﺱ ﻣﻦ ﺍﻻ ﻧﺲ ﯾﻌﺒﺪﻭﻥ ﻧﺎﺳﺎً ﻣﻦ ﺍﻟﺠﻦ '' ﯾﮧ ﺁﯾﺖ ﺍﻥﻟﻮ ﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮ ﺋﯽ ﺟﻮ ﺟﻨﺎﺕ ﮐﮯﮔﺮﻭﮦ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮ ﺗﮯ ﺗﮭﮯ '' ﻓﺎﺳﻠﻢ ﺍﻟﺠﻦ ﻭﺗﻤﺴﮏﮬﺆ ﻻ ﺀ ﺑﺪﯾﻨﮭﻢ '' ﺟﺐ ﺍﻥ ﺟﻨﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺠﺎﺭﯼ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ, ﺩﻻﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺗﻢ ﭘﻮﺝ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﻣﻘﺮﺏ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﻭﺳﯿﻠﮧ ﮈﮬﻮﻧﮉﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱﮐﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻼ ﺣﻈﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼﺝ ٢ ،ﺹ٦٨٥ﻃﺒﻊ ﺩﮨﻠﯽ ,ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ ,ﺝ ٢ﺹ٤٢٢ ﻃﺒﻊ ﻧﻮﻝ ﮐﺸﻮﺭ ,ﻟﮩﺬﺍ ﺍﺱ ﺗﻔﺼﯿﻞ مطلب یہ ﮨﮯ ﮐﮧﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺮﺑﺎﻥ ﺍﻟﮩٰﯽ ﮐﺎ ﻭﺳﯿﻠﮧ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎﻗﻄﻌﯽ ﺟﻮﺍﺯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺍﻭ ﺭ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺏ ﺍﻟﮩٰﯽﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻘﺮﺏ ﮐﮯﻣﺘﻼﺷﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺏ ﺟﻠﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﮏ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎﻭﺳﯿﻠﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﻧﺎ ﺍﻧﺒﯿﺎ ﺍﻭﺭﻣﻘﺮﺑﯿﻦ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ ۔ " امام صاحب سانس لینے رک گئے تو اذان نے بے چینی سے پہلو بدلا ۔
" یہ بات ہوئی اللّه کے نیک بندوں کو وسیلہ بنا کر دعا کرنے کی کہ اللّه کے نیک بندے خود بھی اللّه کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں تو نبی کریم سے بڑھ کر کون زیادہ بہتر وسیلہ ہوگا ۔؟ یہ اللّه کی اپنے حبیب سے محبت ہے کہ ہر دعا کے لئے درود لازم قرار دیا اور وسیلے سے مانگی گئی دعا میں انتظار کی گنجائش نا رکھی بس انسان کو چاہئے کہ اس کا یقین کامل ہو ۔ "
" لیکن امام صاحب حضور علیہ السلام تو پردہ فرما چکے ہیں ۔؟"
" میں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ وصال کے بعد بھی فیض جاری رہتا ہے اور وہ تو رحمت اللعالمین ہیں ، تمام جہاں کے لئے رحمت یعنی ہر زمانے میں آپ موجود ہیں آپ کا فیض جاری ہے کیوں کہ اگر نبی کریم کا فیض جاری نا رہتا تو یقین کرو اذان اس وقت تک دنیا فنا ہو چکی ہوتی ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ )م : ۶۶۱۔۷۲۸ھ( یوں بیان کرتے ہیں : وذلك أن التوسل به في حياته، ھو أنھم كانو يتوسلون به، أي يسألون أن يدعو الله، فيدعو لھم، ويدعون فيتوسلون بشفاعته ودعائه ۔
وسیلہ کی یہ صورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارکہ میں اس طرح تھی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ سے دعا کی درخواست کرتے اور پھر خود بھی دعا کرتے۔ یوں اس طریقہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش اور وسیلہ حاصل کرتے تھے۔]مختصر الفتاوي المصرية، ص:194[ ۔۔۔۔ " امام صاحب خاموش ہوئے تو اذان نے اثبات میں سر ہلایا :
" الحمدللہ سمجھ آیا لیکن حضرت ایک سوال تھا ۔"
" ضرور پوچھو ۔" فوراً اجازت ملی ۔
" دیکھیں جو مزاروں پر جا کر دعا مانگتے ہیں وہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے نا کہ اللّه کے نیک بندوں کے وسیلے ڈھونڈو ۔؟" اذان نے الجھ کر پوچھا ۔
" بالکل ۔۔" امام صاحب نے سر ہلایا ۔" اللّه کے نیک بندوں کے قرب میں دعا قبول ہوتی ہے ۔ اب آسانی سے سمجھنا چاہو تو بتاتا ہوں کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے جب بی نی مریم رضی اللّه عنہ کے پاس بے موسم طرح طرح کے پھل دیکھے تو انہیں حیرت ہوئی ۔ دریافت کرنے پر بی بی مریم نے جواب دیا کہ یہ بے موسم پھل اللّه کی طرف سے ہیں ۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے دل میں کہا لہ جو ذات مریم کو بے موسم پھل دے سکتی ہے وہی ذات مجھے بوڑھاپے میں اولاد بھی دے سکتی ہے ۔ تب آپ علیہ السلام نے محراب میں کھڑے ہو کر اولاد کے لئے دعا کی تو ان کی دعا قبول ہو گئی ۔ " امام صاحب تھوڑا رک گئے ۔
" اذان یہاں الجھنا نہیں دیکھو حضرت زکریا علیہ السلام نبی ہیں اور نبی ہر شخص سے اعلیٰ ہوتا ہے اور اسے کسی انسان سے رجوع کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ یہاں زکریا علیہ السلام کا محراب میں دعا مانگنے کا مطلب ہے کہ جہاں ہر وقت عبادت ہوتی ہے اللّه کے نیک بندے جمع ہو کر ذکر کرتے ہیں وہاں رحمت الہی کی بارش ہوتی ہے، وہاں دعا قبول ہوتی ہے ۔ زکریا علیہ السلام نبی ہیں انہوں نے عبادت کی جگہ پر کھڑے ہو کر دعا کی ۔ سمجھے ۔؟"
" جی الحمدللہ تعالیٰ ۔" اذان نے سنجیدگی سے کہا ۔
" الحمدللہ تعالیٰ ۔ آج کے لئے اتنا کافی ہے ۔" انہوں نے اتنا کہہ کر صادق کو آواز دی تو وہ دوسرے کمرے سے نکل کر سامنے آ کھڑا ہوا ۔
" چلیں بھئ نعت خواں صاحب ہمارے دل بے چین ہیں ، ذرا ذکر تو کریں پیارے نبی کا کہ ہمیں سکون ملے ۔" امام صاحب نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی ہنس دیا ۔ کچھ دیر بعد وہ لوگ درود پڑھ کر صادق کی زبانی نعت شریف سن رہے تھے اور ایمان ان کے دلوں میں روشنی پھیلاتا روح میں سرایت کر رہا تھا ۔
***
اگلے دو مہینے بعد اذان کے فائنل ایگزامز شروع ہو گئے ۔ اس دوران بھی وہ ایک گھنٹے کی ہی خاطر صحیح لیکن امام صاحب کے پاس روزانہ جاتا تھا ۔ اسے امام صاحب نے ایک دعا بتائی ۔
" تم گیارہ مرتبہ درود پڑھ کر اکتالیس مرتبہ یا نافع پڑھ لیا کرو اور آخر میں دوبارہ گیارہ بار درود ، پھر مجھے آکر بتانا پیپر کیسا گیا ۔؟" اور وہ مسکرا دیا لیکن پیپر کے وقت اس نے امام صاحب کی باتوں پر عمل ضرور کیا اور حیرت انگیز طور پر اس کا پیپر بہت جلد حل ہو گیا تھا ۔ ہاں وہ ہمیشہ سے اسٹڈی میں اچھا تھا لیکن لکھنے میں جو وقت لگتا تھا اسے آج کم وقت لگا ۔ آہستہ آہستہ دن گزرتے جا رہے تھے ۔ پھر وہ دن بھی آیا جب اذان نے نمایاں کامیابی حاصل کر کے اپنے والد کا بزنس میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا ۔ جب اسے کامیابی ملی تو لوگوں نے پارٹی کا تقاضہ کیا اور اذان جو ان سب چیزوں کو عرصہ ہوا ترک کر چکا تھا لوگوں کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا کر ایک یتیم خانے چلا گیا جہاں سینکڑوں کی تعداد میں موجود بچوں کو اس کے اپنے ہاتھوں تحفے دئے ، پھر کچھ وقت گزار کر اولڈ ہاؤس جا پہنچا ، بوڑھوں کے ساتھ بیٹھ کر خوب باتیں کیں اور پھر رات میں کافی اصرار کر کے وہ امام صاحب اور صادق کو اوبرائے میں ڈنر کرانے لے گیا ۔ زندگی اپنی ڈگر پر چلنے لگی لیکن دل ۔۔۔ دل تو جیسے کہیں پابند سلاسل تھا ۔۔۔ ایک سوچ کے آگے بڑھنے سے انکاری ۔۔۔ جب دل کہیں ٹھہر جاتا ہے نا تو ہم جتنی بھی کوشش کر لیں زندگی کو صرف گزار سکتے ہیں جی نہیں سکتے ۔ جیتے اسی وقت ہیں جب دل راضی ہو اور دل کی رضا ایسی ہو کہ رب راضی ہو جائے ۔
***
آیت کی اسٹڈی بھی کمپلیٹ ہو چکی تھی ۔ نایاب کی بدولت اذان کو علم ہوا تو وہ خاموش سا ہو گیا البتہ چہرے کے تاثرات بدل گئے ، نظروں میں ایک انجانی کیفیت ظاہر ہوئی اور اذان نے اپنا سر جھکا دیا ۔ نایاب کے لاکھ پوچھنے پر بھی وہ کچھ نہیں کہہ پایا ۔ اگلے دن آیت معمول کے مطابق اپنی چھت پر بیٹھی آنکھیں بند کے نعت پڑھ رہی تھی جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی ۔ اسے محسوس ہوا جیسے کوئی مہمان آیا ہو ۔ فطری تجسس نے اس کے اندر چٹکی لی اور وہ چھت سے اتر کر ایک ایک سیڑھی پر قدم رکھتی تیزی سے نیچے ہال میں آئی جہاں ایک نہایت باوقار خاتون اس کی امی سے بیٹھی بات کر رہی تھیں ، قریب ہی ایک شخص بلیک کوٹ پینٹ اور بلیو شرٹ میں ملبوس اس کے والد سے کافی ہنس ہنس کر بات کر رہے ۔ انہیں کے بیچ نایاب بھی موجود تھی جب اس کی نظر آیت پر پڑی تو وہ خوشی سے اٹھ کر اس تک آئی ۔
" لیجیے آیت بھی آ گئی ۔"
آیت کی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے ۔ جب نایاب آیت کے پاس آئی تو اس نے سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا :
" یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔؟"
" تمہارے لئے رشتہ آیا ہے ۔ اب بارہ بجے چہرے پر تھوڑی سمائل لاؤ ۔" نایاب نے ہنسی چھپاتے ہوئے کہا تو آیت کے پاؤں تلے زمین نکل گئی ۔ اس سے قبل کہ وہ لڑکھڑا کر گر جاتی نایاب نے اسے سہارا دیا ۔
" سنبھال کے ۔"
نایاب اسے لوگوں کے درمیان میں لے آئی ۔ آیت خالی خالی نظروں سے بس زمین کو تک رہی تھی نایاب نے اس کی حالت محسوس کرتے ہوئے عشرت ( آیت کی امی ) سے اجازت لی اور اسے کمرے میں کے آئی ۔
" یہ سب کیا ہے آیت ۔؟" وہ دروازہ لاک کرتے جھنجھلا کر پلٹی تو مقابل موجود آیت کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر پریشان ہو گئی ۔
" آیت ۔۔ آیت میری بہن ہوا کیا ہے ۔"
" کچھ نہیں ۔۔۔ " وہ نفی میں سر ہلاتی زمین پر ہی بیٹھ گئی ۔
" بتاؤ تو صحیح ۔۔" نایاب اس کے پاس آ بیٹھی ۔
" از ۔۔ اذان کا کیا ہو گا ۔؟" اس کا لہجہ بھیگ گیا ۔ نایاب پہلے تو حیران ہوئی پھر اسے لمحے لگے یہ سمجھنے کہ وہ اذان کے پیرنٹس کو نہیں پہچان پائی جو نیچے بیٹھے اسی کی باتیں کر رہے تھے ۔ نایاب کے لئے یہ اچھا موقع تھا اس نے ابرو اچکا کر سامنے روتی ہوئی آیت کو دیکھا ۔
" تمہیں کیا فرق پڑتا ہے ۔؟ ویسے بھی جہاں تک میں جانتی ہوں تم اسے انکار کر چکی ہو ۔" نایاب نے سنجیدگی سے کہا ۔
" تم سمجھتی کیوں نہیں نایاب ۔" آیت چٹخ کر بولی ۔" میں اپنی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے کہہ رہی ہوں کہ اگر وہ دوبارہ پہلے جیسے بن گیا تو یہ گناہ بھی میرے سر جائے گا ۔"
" اوہ ۔۔" نایاب کا دل کیا کہ وہ اپنا سر دیوار سے مار لے ۔ وہ بھی کس لڑکی سے ایسی باتیں کر رہی تھی ۔ لیکن آیت کو مسلسل روتے دیکھ کر اس کا دل تھوڑا پگھل گیا ۔
" یہ اذان کے پیرنٹس ہیں آیت ۔۔ جو تمہیں دیکھنے آے تھے ۔ "
" کیا ۔؟" آیت کا منہ اس انکشاف پر کھل گیا ۔
" ہاں ۔۔ اذان نے مجھ سے کہا کہ میں انہیں تمہارے گھر لے آؤں ۔ " وہ اتنا کہہ کر اٹھ گئی ۔ باہر سے عشرت بیگم کی آواز آ رہی تھی تو وہ کمرے سے ہی نکل گئی ۔ آیت جو کہ پہلے فکر سے رو رہی تھی اب اس سے رویا بھی نہیں جا رہا تھا ۔ اسے اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں اور ایک جھٹکے سے اس کا پورا وجود زمین پر جا لگا ۔
***

No comments:
Post a Comment