Saturday, 24 August 2019

Wehshat-e-Ishq By Ramsha Mehnaz ||Episode#6

#وحشتِ عشق
#رمشاء مہناز
# قسط نمبر 6
(Don't copy without any permission)

صبح شزرا کی آنکھ کھلی تو اس کی طبیعت قدرے بہتر تھی بخار کہ شدت کم تھی مگر اب بھی تھا کمزوری شدید ہو چکی تھی وہ آہستگی سے اٹھ کے بیٹھ گئی اسے اپنا دماغ شل سا محسوس ہوا اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا گھومتا سر تھام لیا ابھی وہ اٹھ کے بیٹھی ہی تھی کہ منال اندر داخل ہوئی اسے دیکھ کے شزرا کا حلق تک کڑوا ہوگیا اس نے منہ پھیر لیا اس کا ایسے منہ پھیرنا منال کی نظروں سے چھپا نہ رہ سکا وہ اپنی جگہ جیسے جم سی گئی اس کے سر پہ شاید حیرت کا پہاڑ ٹوٹا تھا شزرا اس کے ساتھ ایسا رویہ کیوں رکھے تھی اسے سمجھ نہیں آیا مگر دوسرے ہی پل وہ خود کو سنبھال کے آگے بڑھی۔
"کیسی طبیعت ہے اب شزرا؟" منال نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پیار سے پوچھا شزرا اس کی طرف دیکھے بغیر بیڈ سے اٹھی اور فریش ہونے چلی گئی وہ ہکا بکا اسے جاتے دیکھتے رہی اس نے اس کی بات کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔وہ سمجھ نہیں پارہی تھی ایسا کیا ہوا ہے جو شزرا اس کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کر رہی ہے آنکھ سے دو آنسو نکل کر بے مول ہوئے وہ سر جھٹکتے ہوئے اٹھی اور شزرا کے لئے ناشتہ لینے چلی گئی۔
شزرا فریش ہو کہ آئی تو روم میں منال موجود نہیں تھی شزرا دوپٹہ اوڑھتی ہوئی نیچے چلی گئی وہ نیچے پہنچی تو سب ڈائننگ ٹیبل کے گرد موجود تھے۔
"ارے شزرا تم۔۔۔۔آو بیٹا" دادو نے اسے خاموش کھڑا دیکھ کے اسے اپنے پاس بلایا۔
"جی دادو" شزرا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ان کے پاس آئی اور ان کے برابر میں رکھی خالی چیئر گھسیٹ کے بیٹھ گئی۔
منال جو نیچے اس کے لئے ناشتہ بنانے آئی تھی وہ خاموشی سے آکے واپس بیٹھ گئی۔
"طبیعت کیسی ہے اب بیٹا؟" تائی امی نے اس کے سر پہ شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔
"ٹھیک ہے اب" شزرا نے سر جھکائے کہا۔
وہ بہت خاموش سی تھی آزر نے اس کی طرف بغور دیکھا جو ہر وقت چہکتی رہتی تھی اب بلکل خاموش تھی اس کی خاموشی میں کچھ تھا جو آزر کو چبھ رہا تھا۔
ناشتے سے فراغت کے بعد سب لوگ ہال میں رکھے صوفوں کے گرد بیٹھے تھے آج چھٹی کا دن تھا تو سب اپنے کاموں میں مصروف تھے۔
امین صاحب اور دلاور صاحب ایک طرف بیٹھے بزنس کے معاملات ڈسکس کر رہے تھے جبکہ ان کے برابر میں بیٹھے آزر لیپ ٹاپ میں سر دیئے بیٹھے تھے۔
تائی امی ایک طرف بیٹھی کپڑے تہہ کر رہی تھیں جبکہ شزرا دادو کی گود میں سر رکھے خاموش سے لیٹی تھی۔
تھوڑی دیر بعد منال شزرا کے لئے میڈیسن لے کہ آگئی۔
"شزرا اٹھو میڈیسن لے لو" منال نے پانی کا گلاس سامنے رکھی کانچ کی ٹیبل پہ رکھتے ہوئے کہا مگر شزرا ان سنی کر کے لیٹی رہی۔
"شزرا میڈیسن" منال نے ایک بار پھر اسے مخاطب کیا۔
"مجھے نہیں لینی" شزرا نے روکھے لہجے میں کہا۔
"میڈیسن نہیں لو گی تو طبیعت کیسے ٹھیک ہوگی" منال نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھانا چاہا۔ 
"کیا مسئلہ ہے آپ کو جب میں نے کہہ دیا نہیں لینی میڈیسن آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتا۔۔۔۔؟ کیوں میرے پیچھے پڑ گئیں ہیں آپ؟"  شزرا نے ایک جھٹکے سے اس سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور اٹھ کے بیٹھ گئی اس کی آواز قدرے اونچی تھی۔
دادو کے تسبیح ودر کرتے ہاتھ رک گئے انہوں نے گردن گھما کر قدرے چونک کر شزرا کو دیکھا جو آنکھوں میں آنسو بھرے منال کو دیکھ رہی تھی۔
" شزرا کیا بدتمیزی ہے یہ" دلاور  صاحب اٹھ کے ان لوگوں کے پاس آ گئے۔
"بابا رہنے دیں" منال نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کچھ بھی کہنے سے روکا۔
"بڑی بہن سے کوئی ایسے بات کرتا ہے " دلاور صاحب کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھآ۔
شزرا باقاعدہ رونا شروع ہو چکی تھی۔
" چاچو رہنے دیں اس کی طبیعت خراب ہے ابھی" آزر اٹھ کے شزرا کے پاس آئے۔
" طبیعت خراب ہے تو کیا سب سے بدتمیزی کرو گی" دلاور صاحب نے کہا۔
شزرا نے ایک نظر آزر کی طرف دیکھا اور پلٹ کے روتے ہوئے اپنے روم میں چلی گئی۔
"میں دیکھتا ہوں" آزر وہاں سے شزرا کے روم کی طرف چلے گئے۔
آزر روم میں داخل ہوئے تو سامنے ہی شزرا بیڈ پہ گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی رو رہی تھی۔
"شزرا کیوں رو رہی ہو" آزر نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پیار سے پوچھا مگر وہ ہنوز روتی رہی۔
"تم ایسے اپنی طبیعت اور خراب کر لو گی" آزر نے اس کامرمریں ہاتھ پکڑتے ہوئے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا آنکھیں رونے کے باعث سرخ ہو چکی تھیں آنکھوں میں لال ڈورے تیر رہے تھے۔
"دیکھو کیا حالت کر لی ہے تم نے رو رو کے" آزر نے اسکے آنسو اپنی پوروں پہ چنتے ہوئے کہا۔
"میں ٹھیک ہوں" شزرا نے آنکھوں سے بہتے آنسو ہاتھ کی پشت سے بیدردی سے رگڑ دیئے۔
"بتاؤ مجھے کیا مسئلہ ہے کیوں ایسے بی ہیو کر رہی ہو" آزر نے اسے نرمی سے اپنے حصار میں لیتے ہوئے پوچھا مضبوط بازوؤں کا سہارا ملتے ہی وہ مزید رو دی آزر نے اب کی بار اسے رونے دیا۔
اب وہ آزر کو کیسے بتاتی وہ انہیں کھونے کے ڈر سے گزر رہی ہے اس کی بہن ہی اس سے اس کی خوشیاں چھین رہی ہے اس نے اپنے درد کو اپنے آنسوؤں میں بہہ جانے دیا کچھ دیر بعد وہ قدرے سنبھلی تو آزر نے اسی نرمی سے خود سے اسے الگ کیا۔
"اب بتاؤ کیا ہوا کیوں رو رہی ہو" آزر نے بغور اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"کچھ نہیں بس طبیعت خراب ہے" شزرا نے جھکے سر کے ساتھ جواب دیا۔
"پہلے بھی ہوتی تھی لیکن تم ایسے بی ہیو تو نہیں کرتی تھیں" آزر جیسے کچھ کھوجنا چاہتے تھے۔
"میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہوں" شزرا نے ان سوالوں سے زچ آکے جواب دیا۔
"ٹھیک ہے تم آرام کرو اور کوئی ٹینشن نہیں لو" آزر نے اسے آہستگی سے لٹاتے ہوئے کہا اور روم سے باہر چلے گئے ان کے جانے کے بعد شزرا کے رکے آنسو ایک بات پھر بہنے لگے سوچ سوچ کے اس کا دماغ ماؤف ہونے لگا۔
صبح سے رات ہو گئی منال دوبارہ اس کے روم میں نہیں آئی۔
دروازے پہ ہلکا سا ناک ہوا وہ سیدھی ہو کے بیٹھ گئی دلاور صاحب آہستگی سے چلتے ہوئے آ کے اس کے برابر میں بیٹھ گئے.
" کیسی طبیعت ہے اب؟" وہ اس کے پاس بیٹھے پیار سے پوچھ رہے تھے وہ انہیں دیکھ کے اٹھ کے بیٹھ گئی۔
"ٹھیک ہوں" اس نے دو لفظی جواب دیا۔
"آپ کو پتا ہے شزرا جب آپ پیدا ہوئی تھیں آپ کی مما ہمیں چھوڑ کے چلی گئیں" دلاور صاحب نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بات کا آغاز کیا اسے ان کی آواز جیسے بھرائی ہوئی سی لگی شزرا نے ناسمجھی سے ان کی طرف دیکھا وہ ابھی یہ بات کیوں کر رہے تھے مگر وہ خاموش رہی۔
"آپ بلکل چھوٹی سی تھیں آپ کو پتا بھی نہیں تھا اس وقت کچھ لیکن منال دو سال کی تھی اسے پتا تھا کہ اس کی مما اسے چھوڑ کے چلی گئیں ہیں مگر پتا ہے اس نے پہلا سوال کیا کیا مجھ سے۔۔۔۔۔" دلاور صاحب نے تھوڑا رک کے شزرا کی طرف دیکھا وہ اب بھی ناسمجھی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
"پتا ہے کیا سوال کیا کہ اب اس چھوٹی سی بے بی کا کیا ہوگا؟" بولتے بولتے ان کی آواز بھر آئی۔
"وہ آپ کو پا کے اپنی ماں کا غم تک بھول گئی تھی وہ دن رات آپ میں مصروف رہتی وہ اپنی ماں کے مرنے پہ کبھی ہمارے سامنے نہیں روئی مگر میں جانتا ہوں وہ اکیلے میں بہت روتی تھی مگر آپ کو اس نے کبھی رونے نہیں دیا آپ میں جان بستی ہے اس کی" شزرا ان کے کندھے پہ سر رکھے سب سن رہی تھی آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں۔
"پھر آپ دونوں بڑی ہوتی گئیں اور آپ کے لئے منال کا پیار دن بہ دن بڑھتا گیا اور منال خود کو نظر انداز کئے آپ کی ذات میں مصروف رہی اسے ہر وقت یہی فکر ستاتی رہتی شزرا نے کچھ کھایا یا نہیں اسے کچھ چاہیے یا نہیں اس کی زندگی تو بس آپ کے گرد ہی گھوم رہی ہے نہ اور کون ہے اس کی زندگی میں آپ کے سوا" وہ سانس لینے کے لئے کچھ پل رکے تھے شزرا جیسے گم سم سی بیٹھی تھی وہ سچ ہی تو بول رہے تھے منال کی زندگی میں کیا تھا شزرا کے سوا۔۔۔۔!!!!
"اب آپ بتاؤ کیا یہ صحیح ہے جو آپ نے منال آ پی سے ایسے بات کی" وہ نرمی سے اس کی طرف دیکھ کے پوچھ رہے تھے وہ ندامت سے سر جھکا گئی۔
"آئی ایم سوری بابا" وہ سر جھکائے بول رہی تھی۔
"کوئی بات نہیں بیٹا آپ آپی سے بات کرلو اسے برا نہیں لگا ہوگا" انہوں نے پیار سے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
"جی بابا" اس نے آنسو پیتے ہوئے کہا۔
اسے احساس ہوا کہ وہ کیا کرنے جا رہی تھی وہ کیسے منال کے ساتھ ایسا بی ہیو کر سکتی تھی اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا وہ آزر کی وجہ سے کیوں منال سے دور ہو رہی تھی وہ اپنا سر پکڑ کے بیٹھ گئی۔
کچھ دیر بعد وہ اٹھ کے منال کے روم کی طرف بڑھی اس نے ہلکے سے دروازہ کھولا تو دروازہ کھلتا چلا گیا منال دروازے کی طرف پشت کئے رائٹنگ ٹیبل کے گرد بیٹھی تھی وہ اسی ڈائری پہ جھکی کچھ لکھ رہی تھی شزرا کے دماغ میں ایک بات پھر جھکڑ سے چلنے لگے اس کے قدم اٹھنے سے انکاری ہو گئے آنکھیں آنسوؤں سے لبالب بھری تھیں جو کسی بھی لمحے چھلکنے کو بیتاب تھیں اس کے چہرے پہ کچھ کھونے کا ڈر واضح طور پہ دیکھ رہا تھا وہ الٹے قدموں وہاں سے واپس آئی اور بیڈ پہ گر کے ایک بار پھر رو دی۔
وہ نہیں جانتی تھی زندگی کبھی ایسا موڑ بھی لے گی کہ اسے زندگی ہی بھاری لگنے لگے گی وہ بس روئے جا رہی تھی۔
منال یا آزر میں سے وہ کسے چنے یہی سوچ سوچ کے وہ پاگل ہونے لگی سر کا درد بڑھتا ہی جا رہا تھا اگر اس نے دونوں میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑا تو دونوں کی ٹوٹ کے بکھر جاتے دونوں ہی اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز تھے اور وہ اس کا کیا وہ کیسے رہ سکتی تھی کسی ایک کے بھی بغیر۔۔۔
پوری رات آنکھوں میں بسر ہوئی تھی سوچ جیسے دو لوگوں کے گرد اٹک کے رہ گئی ساری رات وہ کسی غیر مرئی نقطے پہ نظریں جمائے بیٹھی رہی اسے فیصلہ لینا تھا اور جلد ہی لینا تھا۔
صب کاذب کی ہلکی ہلکی سپیدہ نمودار ہوئی تو اس نے نظریں گھما کے کھڑکی کے پار اترتے سورج کو دیکھا جو پوری آب و تاب سے چمکنے کے لئے بے قرار تھا صبح کی انوکھی سی ٹھنڈک ماحول میں رچی ہوئی تھی اس کی آنکھیں ساری رات جاگنے کے باعث سرخ تھیں مگر وہ مطمئن تھی اس کے چہرے پہ ایک فیصلہ کن تحریر رقم تھی۔


No comments:

Post a Comment