تحریر:محسن واصفی
عنوان:محبت
عاشر، یار جس عاشر کو میں جانتا تھا وہ بہت سنجیدہ تھا۔مگر اب یہ بے وجہہ مسکرانا کیسا؟ تم اتنے بدل کیسے گئے ہو۔ کبھی تو تمہارے چہرے کی طمانیت سے لگتا ھے کہ زندگی اپنی تمام رعنائیوں سے تم میں اتر آئی ھے۔
مگر حیراں ہوں کہ اسی چہرے کی رونقیں کبھی کبھار کیمپس کی اداس شام میں کیوں بدل جایا کرتی ھیں۔۔۔
کہیں وہ لڑکی ۔۔۔۔؟ کہیں تمہاری خوشی اور غم اسکے ڈیپارٹمنٹ آنے سے مشروط تو نہیں۔۔۔؟
حامد! مرے پاس شائید تمہاری الجھنوں کے جواب نہیں۔
مگر کیوں عاشر۔۔۔؟ میں جب بھی یہ بات پوچھوں تم موضوع کیوں بدل دیا کرتے ہو۔۔۔؟
آخر کیا ہے، جو جب بھی میں اس لڑکی کے متعلق سوال کروں تو تمہارا ھر لفظ نا تمام اور گفتگو نا مکمل ھو جاتی ھے؟ تمہاری باتوں سے بڑھ کر تو تمھارے چہرے کی الجھنیں مجھے پریشاں کرتی ہیں۔
حامد! اگر تم جاننے پہ مصر ہی ہو تو سنو۔ تمہارے سبھی محسوسات درست ہیں۔ مگر مرے صرف خوشی اور غم ہی اس سے نہیں جڑے، مرے ہر جزبے کی حد اسی پری پیکر کی جستجو ھے۔ اس کی آنکھیں ھی مری کائنات ہیں، اسکی آہٹ مری شورش اور اسکی خامشی مرا سکوت ھے۔ جانتے ہو، مجھے کیمپس کی ہر شے سے محبت ہونے لگی ھے۔
اسکے ساتھ گزرا ھر لمحہ گویا کسی ولی کی دُعا ھے۔ اسکے آنے سے جیسے کیمپس کی فضا میں کوئی جنت کی خوشبو گھول دیتا ھو۔۔۔ کیمپس کی جن پگڈنڈیوں پہ وہ مرے ساتھ چلی ھے، اس کے جانے سے وہ سبھی رستے بھی مری طرح ویران سے ہو جاتے ہیں۔۔۔ تم شائید نہیں جانتے کہ اسکے ساتھ میں نے زیست کا مزہ پایا ھے۔۔۔ اسکے ساتھ گزرا ھر لمحہ میں نے اک عمر کی طرح جیا ھے۔۔۔ میں کبھی ان راہوں پہ اکیلا چل کر بھی اکیلا نہیں ہوتا۔ وہ اک حسیں احساس بن کر مری سانسوں میں رچی ھے۔۔۔
مجھکو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ھے۔۔۔
اسکی الفت نے محبت مری عادت کر دی۔۔۔
سچ کہوں تو مری سانسیں بھی اسکے آنے سے مشروط ہیں۔۔۔ اسکا روٹ جب پلیٹ فارم چھوڑتا ھے تو مجھے یہ بوجھ لگتی ہیں۔ وہ جیسے اُس روٹ میں مری ساری دنیا سمیٹ کر لے جاتی ھے۔۔۔
اف!!!!! عاشر، بند کرو یہ محبت کا ڈھونگ۔۔۔ تم لوگوں نے آخر سمجھ کیا رکھا ھے محبت کو۔۔۔
تم نہ محبت کی کشش سے واقف ہو نہ دیوانگی سے۔۔ نہ اسکا مطلب جانتے ہو نہ اسکی تڑپ۔۔۔
حامد! تمہیں محبت سے اتنی نفرت کیوں ھے۔ یہ تو تمام جزبوں میں معتبر ھے۔۔ یہ تو باعثِ تخلیقِ کائنات ھے۔۔۔ اور تمہیں کس نے کہہ دیا کہ میں اسے نہیں چاہتا۔۔ وہ تو خدا کی عطا ھے۔۔۔ وہ تو مرا مقصدِ حیات ھے۔۔ وہ تو مجھ سے بھی بڑھ کر مرے قریب ھے۔۔۔!!!!
عاشر جھوٹ کہتے ہو تم، فریب دیتے ھو تم خود کو۔ تمہیں اس سے محبت نہیں۔ تمہیں اسکا بھوت ہوا ھے۔ وہ تمھارے اعصاب میں اتری ھے تمھارے دل میں نہیں۔۔۔ تمہاری سوچوں میں اتری ھے تمہاری رگوں میں نہیں۔۔۔ تمہاری خواہشوں میں بستی ھے تمھاری زندگی میں نہیں وہ تمہارا مقصدِ حیات ھے تمہاری حیات نہیں۔ ۔۔۔ تم اس سے جڑنا تو چاھتے ہو مگر اسکی خاطر دنیا سے کٹنا نہیں جانتے۔۔۔
وہ تمہاری ہزاروں خواہشوں میں سی ایک تو ہے، مگر واحد خواہش نہیں۔۔۔
جب تمہاری نگاہوں کو اسکے سوا کوئی نا دکھے، جب وہ تمہاری ڈھرکنوں کا شور بن جائے، جب وہ تمہاری رگوں میں سرائیت کر جائے۔ جب تم اس میں سے اور خود میں سے خود کو تفریق کرنا سیکھ جائو، جب اپنا تن اور من بھول کر ھر شے میں تجھے اسکا عکس دکھائی دے، جب تری تنہائی انجمن اور محفل تنہائی بن جائے، جب تو اسے پانے کی جستجو میں پوری دنیا سے لڑ اٹھے۔۔۔ اور جب تو اسکے مرنے پے خود بھی فنا ہونا سیکھ لے تو تب کہیو کہ وہ تری محبت ھے۔۔۔ ورنہ اسے کبھے مت بتائیو کہ تجھے اس سے محبت ھے۔۔۔ کبھی مت بتائیو ۔۔۔
یہ عشق، محبت، مہر و وفا، سبھ رسمی رسمی باتیں ھیں
ھر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ھے۔

No comments:
Post a Comment